هُشَيْمٌ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، أَبُو رِمْثَةَ التَّمِيمِيُّ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو رِمْثَةَ التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابْنٌ لِي، فَقَالَ:" هَذَا ابْنُكَ؟". فَقُلْتُ: نَعَمْ أَشْهَدُ بِهِ. قَالَ:" لَا يَجْنِي عَلَيْكَ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ". قَالَ: وَرَأَيْتُ الشَّيْبَ أَحْمَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! میں اس کی گواہی دیتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کے کسی جرم کا ذمہ دار تمہیں یا تمہارے کسی جرم کا ذمہ دار اسے نہیں بنایا جائے گا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سرخ وسفید بال دیکھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17491]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، رجاله ثقات، لكن فى هذه الرواية: أن أبا رمثة جاء إلى النبى صلى الله عليه و آله وسلم مع ابنه، والصواب: أنه جاء مع أبيه
الحكم: حديث صحيح، رجاله ثقات، لكن فى هذه الرواية: أن أبا رمثة جاء إلى النبى صلى الله عليه وسلم مع ابنه، والصواب: أنه جاء مع أبيه