بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث اَبِی رِمثَةَ التَّیمِیِّ وَیقَال : التَّمِیمِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 17491 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، أَبُو رِمْثَةَ التَّمِيمِيُّ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو رِمْثَةَ التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابْنٌ لِي، فَقَالَ:" هَذَا ابْنُكَ؟". فَقُلْتُ: نَعَمْ أَشْهَدُ بِهِ. قَالَ:" لَا يَجْنِي عَلَيْكَ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ". قَالَ: وَرَأَيْتُ الشَّيْبَ أَحْمَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! میں اس کی گواہی دیتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کے کسی جرم کا ذمہ دار تمہیں یا تمہارے کسی جرم کا ذمہ دار اسے نہیں بنایا جائے گا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سرخ وسفید بال دیکھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17491]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، رجاله ثقات، لكن فى هذه الرواية: أن أبا رمثة جاء إلى النبى صلى الله عليه و آله وسلم مع ابنه، والصواب: أنه جاء مع أبيه
الحكم: حديث صحيح، رجاله ثقات، لكن فى هذه الرواية: أن أبا رمثة جاء إلى النبى صلى الله عليه وسلم مع ابنه، والصواب: أنه جاء مع أبيه
حدیث نمبر: 17492 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ ، إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، أَبِي رِمْثَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عن أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي، فَرَأَى الَّتِي بِظَهْرِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أُعَالِجُهَا لَكَ فَإِنِّي طَبِيبٌ؟ قَالَ:" أَنْتَ رَفِيقٌ، وَاللَّهُ الطَّبِيبُ". قَالَ:" مَنْ هَذَا مَعَكَ؟" فَقَالَ: ابْنِي اشْهَدْ بِهِ. قَالَ: " أَمَا إِنَّهُ لَا تَجْنِي عَلَيْهِ، وَلَا يَجْنِي عَلَيْكَ" . قَال عَبْدُ الله: قَالَ أَبي: اسْمُ أَبِي رِمْثَةَ رِفَاعَةُ بْنُ يَثْرِبِيٍّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک پشت پر انہوں نے جب مہر نبوت دیکھی تو کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا میں آپ کا علاج نہ کروں؟ کہ میں طبیب ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم تو رفیق ہو، طبیب، اللہ ہے، پھر فرمایا یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ میرا بیٹا ہے اور میں اس پر گواہ ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! یہ تمہارے کسی جرم کا اور تم اس کے کسی جرم کے ذمہ دار نہیں ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17492]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17493 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ السَّدُوسِيِّ ، أَبِي رِمْثَةَ التَّمِيمِيِّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ السَّدُوسِيِّ ، عن أَبِي رِمْثَةَ التَّمِيمِيِّ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي حَتَّى أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ بِرَأْسِهِ رَدْعَ حِنَّاءٍ، وَرَأَيْتُ عَلَى كَتِفِهِ مِثْلَ التُّفَّاحَةِ، قَالَ أَبِي: إِنِّي طَبِيبٌ، أَلَا أَبُطُّهَا لَكَ؟ قَالَ:" طَيَّبَهَا الَّذِي خَلَقَهَا". قَالَ: وَقَالَ لِأَبِي:" هَذَا ابْنُكَ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْك، وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مہندی کا اثر دیکھا اور کندھے پر کبوتری کے انڈے کے برابر مہر نبوت دیکھی تو میرے والد کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا میں آپ کا علاج نہ کروں کہ میں طبیب ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کا طبیب اللہ ہے، جس نے اسے بنایا ہے، پھر فرمایا یہ تمہارے ساتھ تمہارا بیٹا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! یہ تمہارے کسی جرم کا اور تم اس کے کسی جرم کے ذمہ دار نہیں ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17493]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17494 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ، إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، أَبِي رِمْثَةَ التَّمِيمِيِّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عن أَبِي رِمْثَةَ التَّمِيمِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْنَاهُ جَالِسًا فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوا، ہم نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو سبز چادریں زیب تن فرما رکھی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17494]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17495 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْمَسْعُودِيُّ ، إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، أَبِي رِمْثَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عن أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، وَيَقُولُ: " يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا، أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، وَأَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ". قَالَ: فَدَخَلَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ النَّفَرُ الْيَرْبُوعِيُّونَ الَّذِينَ قَتَلُوا فُلَانًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى" مَرَّتَيْنِ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ دینے والے کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے، اپنی والدہ، والد، بہن بھائی اور درجہ بدرجہ قریبی رشتہ داروں کو دیتے رہا کرو، اسی اثناء میں بنو ثعلبہ بن یربوع کے کچھ لوگ آگئے، جنہیں دیکھ کر ایک انصاری کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ وہی یربوعی لوگ ہیں جنہوں نے فلاں آدمی کو قتل کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا یاد رکھو! کسی شخص کے جرم کا ذمہ دار کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17495]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، المسعودي مختلط، وسماع البصريين من قبل اختلاطه
الحكم: حديث صحيح، المسعودي مختلط، وسماع البصريين من قبل اختلاطه
حدیث نمبر: 17496 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ هُوَ ابْنُ الرَّيَّانِ ، قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَسَدِيُّ ، إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، أَبِي رِمْثَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ هُوَ ابْنُ الرَّيَّانِ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عن أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلَامٌ، فَأَتَيْنَا رَجُلًا فِي الْهَاجِرَةِ جَالِسًا فِي ظِلِّ بَيْته عَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ، وَشَعْرُهُ وَفْرَةٌ، وَبِرَأْسِهِ رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ، قَالَ: فَقَالَ لِي أَبِي: أَتَدْرِي مَنْ هَذَا؟ فَقُلْتُ: لَا. قَالَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوا، ہم نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو سبز چادریں زیب تن فرما رکھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال گھنے اور سر پر مہندی کا اثر تھا، میرے والد نے پوچھا کیا تم انہیں جانتے ہو؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے بتایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17496]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف قيس بن الربيع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف قيس بن الربيع
حدیث نمبر: 17497 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى ، الضَّحَّاكُ بْنُ حُمْرَةَ ، غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ ، إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، أَبِي رِمْثَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ حُمْرَةَ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عن أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ، وَكَانَ شَعْرُهُ يَبْلُغُ كَتِفَيْهِ أَوْ مَنْكِبَيْهِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مہندی اور وسمہ سے خضاب لگاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال مبارک کندھوں تک آتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17497]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الضحاك
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الضحاك
حدیث نمبر: 17498 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، ابْنُ إِدْرِيسَ ، ابْنَ أَبْجَرَ ، إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، أَبِي رِمْثَةَ التَّمِيمِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبْجَرَ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عن أَبِي رِمْثَةَ التَّمِيمِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي، وَلَهُ لِمَّةٌ بِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ، وَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17498]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17499 مسند احمد
الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ ، عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، أَبِي ، الشَّيْبَانِيِّ ، إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، أَبُو رِمْثَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رِمْثَةَ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ، فَقَالَ:" ابْنُكَ هَذَا؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں (میں اس کی گواہی دیتا ہوں) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کے کسی جرم کا ذمہ دار تمہیں یا تمہارے کسی جرم کا ذمہ دار اسے نہیں بنایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17499]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، لكن الصواب: أن أبا رمثة جاء مع أبيه لا ابنه
الحكم: حديث صحيح، لكن الصواب: أن أبا رمثة جاء مع أبيه لا ابنه
حدیث نمبر: 17500 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْأَزْرَقُ ، أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ ، الضَّحَّاكُ بْنُ حُمْرَةَ ، غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ ، إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، أَبِي رِمْثَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ حُمْرَةَ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عن أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ، وَكَانَ شَعَرُهُ يَبْلُغُ كَتِفَيْهِ أَوْ مَنْكِبَيْهِ" . شَكَّ أَبُو سُفْيَانَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مہندی اور وسمہ سے خضاب لگاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال مبارک کندھوں تک آتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17500]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الضحاك
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الضحاك