بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث اَبِی رَیحَانَةَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 17206 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَرِيزٌ ، سَعِيدَ بْنَ مَرْثَدٍ الرَّحَبِيَّ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ حَوْشَبٍ ، ثَوْبَانَ بْنِ شَهْرٍ ، كُرَيْبَ بْنَ أَبْرَهَةَ ، أَبَا رَيْحَانَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ مَرْثَدٍ الرَّحَبِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ حَوْشَبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ ثَوْبَانَ بْنِ شَهْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبَ بْنَ أَبْرَهَةَ وَهُوَ جَالِسٌ مَعَ عَبْدِ الْمَلِكِ بِدَيْرِ الْمُرَّانِ وَذَكَرُوا الْكِبْرَ، فَقَالَ كُرَيْبٌ: سَمِعْتُ أَبَا رَيْحَانَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ الْجَنَّةَ"، قَالَ: فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَتَجَمَّلَ بِسَبْقِ سَوْطِي، وَشِسْعِ نَعْلِي؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِالْكِبْرِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، إِنَّمَا الْكِبْرُ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ، وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَيْنَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنت میں تکبر کا معمولی سا حصہ بھی داخل نہیں ہو گا، کسی شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میری سواری اور جوتے کا تسمہ عمدہ ہو (کیا یہ بھی تکبر ہے؟) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ تکبر نہیں، اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے، تکبر یہ ہے کہ انسان حق بات کو قبول نہ کرے اور اپنی نظروں میں لوگوں کو حقیر سمجھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17206]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: «بعينيه» ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن حوشب، وثوبان ابن شهر
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: «بعينيه» ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن حوشب، وثوبان ابن شهر
حدیث نمبر: 17207 مسند احمد
عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، سَعِيد بْنِ مَرْثَدٍ الرَّحَبِيِّ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ حَوْشَبٍ ، ثَوْبَانَ بْنِ شَهْرٍ الْأَشْعَرِيِّ ، كُرَيْبَ بْنَ أَبْرَهَةَ ، أَبَا رَيْحَانَةَ
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيد بْنِ مَرْثَدٍ الرَّحَبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ حَوْشَبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ ثَوْبَانَ بْنِ شَهْرٍ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبَ بْنَ أَبْرَهَةَ وَهُوَ جَالِسٌ مَعَ عَبْدِ الْمَلِكِ عَلَى سَرِيرِهِ بِدَيْرِ الْمُرَّانِ، وَذَكَرَ الْكِبْرَ، فَقَالَ كُرَيْبٌ: سَمِعْتُ أَبَا رَيْحَانَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ الْجَنَّةَ"، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَتَجَمَّلَ بِحَبْلَانِ سَوْطِي، وَشِسْعِ نَعْلِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِالْكِبْرِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، إِنَّمَا الْكِبْرُ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ، وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَيْنَيْهِ" ، يَعْنِي بِالْحَبْلَانِ سَيْرَ السَّوْطِ وَشِسْعَ النَّعْلِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنت میں تکبر کا معمولی سا حصہ بھی داخل نہیں ہو گا، کسی شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میری سواری اور جوتے کا تسمہ عمدہ ہو (کیا یہ بھی تکبر ہے؟) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ تکبر نہیں ہے، اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے، تکبر یہ ہے کہ انسان حق بات کو قبول نہ کرے اور اپنی نظروں میں لوگوں کو حقیر سمجھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17207]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، راجح ما قبله
الحكم: صحيح لغيره، راجح ما قبله
حدیث نمبر: 17208 مسند احمد
حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْحُصَيْنِ الْحِمْيَرِيِّ ، أَبِي رَيْحَانَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْوَشْرِ، وَالْوَشْمِ، وَالنَّتْفِ، وَالْمُشَاغَرَةِ، وَالْمُكَامَعَةِ، وَالْوِصَالِ، وَالْمُلَامَسَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دانتوں کو (خوبصورتی کے لیے) باریک کرنے، جسم گودنے، بال نوچنے، بھاؤ گھٹانے، باہم ایک برتن میں منہ لگانے، بالوں کے ساتھ بال ملانے اور بیع ملامسہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17208]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا الإسناد فيه انقطاع، أبو الحسن الحميري إنما سمعه من صاحبه أبى عامر الحجري، وأبو عامر هذا مجهول الحال
الحكم: صحيح لغيره، وهذا الإسناد فيه انقطاع، أبو الحسن الحميري إنما سمعه من صاحبه أبى عامر الحجري، وأبو عامر هذا مجهول الحال
حدیث نمبر: 17209 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، أَبِي الْحُصَيْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ شُفَيٍّ ، أَبَا عَامِرٍ ، أَبِي رَيْحَانَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ شُفَيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: خَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي يُسَمَّى أَبَا عَامِرٍ رَجُلٌ مِنَ الْمَعَافِرِ لِنُصَلِّيَ بِإِيلِيَاءَ وَكَانَ قَاصُّهُمْ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ، يُقَالُ لَهُ أَبُو رَيْحَانَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ، قَالَ أَبُو الْحُصَيْنِ: فَسَبَقَنِي صَاحِبِي إِلَى الْمَسْجِدِ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَسَأَلَنِي: هَلْ أَدْرَكْتَ قَصَصَ أَبِي رَيْحَانَةَ ؟ فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَشْرَةٍ عَنْ: " الْوَشْرِ، وَالْوَشْمِ، وَالنَّتْفِ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ فِي أَسْفَلِ ثِيَابِهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعْلَامِ، وَأَنْ يَجْعَلَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ مِثْلَ الْأَعَاجِمِ، وَعَنِ النُّهْبَى، وَرُكُوبِ النُّمُورِ، وَلَبُوسِ الْخَاتَمِ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالحصین ہیثم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور میرا ایک دوست جس کا نام ابوعامر تھا اور قبیلہ معافر سے اس کا تعلق تھا، بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے لیے روانہ ہوئے، وہاں قبیلہ ازد کے ایک صاحب جن کا نام ابوریحانہ تھا اور وہ صحابہ میں سے تھے وعظ کہا کرتے تھے، میرا ساتھی مجھ سے پہلے مسجد پہنچ گیا، تھوڑی دیر میں، مَیں بھی اس کے پاس پہنچ کر اس کے پہلو میں بیٹھ گیا، اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم کبھی ابوریحانہ کی مجلس وعظ میں بیٹھے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، اس نے بتایا کہ میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس چیزوں سے منع فرمایا ہے۔ دانتوں کو باریک کرنے سے، جسم گودنے سے، بال نوچنے سے، ایک مرد کے دوسرے مرد کے ساتھ بغیر رکاوٹ کے ایک ہی برتن سے منہ لگانے سے، ایک عورت کے دوسری عورت کے ساتھ ایک ہی برتن کے ساتھ منہ لگانے سے، کپڑے کے نچلے حصے میں نقش و نگار کی طرح ریشم لگانے سے، کندھوں پر عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑے ڈالنے سے، لوٹ مار سے، چیتوں کی کھال کے پالانوں پر سواری کرنے سے اور بادشاہ کے علاوہ کسی اور کے انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17209]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون النهي عن اتخاذ الأعلام من الحرير أسفل الثياب، والنهي عن البوس الخاتم إلا الذى سلطان، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى عامر
الحكم: صحيح لغيره دون النهي عن اتخاذ الأعلام من الحرير أسفل الثياب، والنهي عن البوس الخاتم إلا الذى سلطان، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى عامر
حدیث نمبر: 17210 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْحِمْيَرِيِّ ، أَبِي حُصَيْنٍ الْحَجْرِيِّ ، عَامِرٍ الْحَجْرِيِّ ، أَبِي رَيْحَانَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ الْحَجْرِيِّ ، عَنْ عَامِرٍ الْحَجْرِيِّ ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَرِهَ عَشْرَ خِصَالٍ:" الْوَشْرَ، وَالنَّتْفَ، وَالْوَشْمَ، وَمُكَامَعَةَ الرَّجُلِ الرَّجُلَ، وَالْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ لَيْسَ بَيْنَهُمَا ثَوْبٌ، وَالنُّهْبَةَ، وَرُكُوبَ النُّمُورِ، وَاتِّخَاذَ الدِّيبَاجِ هَاهُنَا وَهَاهُنَا أَسْفَلَ فِي الثِّيَابِ وَفِي الْمَنَاكِبِ، وَالْخَاتَمَ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس چیزوں سے منع فرمایا ہے۔ دانتوں کو باریک کرنے سے، جسم گودنے سے، بال نوچنے سے، ایک مرد کے دوسرے مرد کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے ایک ہی برتن سے منہ لگانے سے، ایک عورت کے دوسری عورت کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے ایک ہی برتن کے ساتھ منہ لگانے سے، کپڑے کے نچلے حصے میں نقش و نگار کی طرح ریشم لگانے سے، کندھوں پر عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑے ڈالنے سے، لوٹ مار سے، چیتوں کی کھال کے پالانوں پر سواری کرنے سے اور بادشاہ کے علاوہ کسی اور کے انگوٹھی پہننے سے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17210]
حکم دارالسلام
راجع ما قبله
الحكم: راجع ما قبله
حدیث نمبر: 17211 مسند احمد
الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، أَبُو الْحُصَيْنِ ، أَبِي رَيْحَانَةَ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْخَاتَمِ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بادشاہ کے علاوہ کسی اور کو انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17211]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، وأبو الحصين سمعه من صاحبه أبى عامر، وهذا منقطع، و أبو عامر مجهول الحال
الحكم: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، وأبو الحصين سمعه من صاحبه أبى عامر، وهذا منقطع، و أبو عامر مجهول الحال
حدیث نمبر: 17212 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حُمَيْدٍ الْكِنْدِيِّ ، عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، أَبِي رَيْحَانَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ انْتَسَبَ إِلَى تِسْعَةِ آبَاءٍ كُفَّارٍ يُرِيدُ بِهِمْ عِزًّا وَكَرَمًا، فَهُوَ عَاشِرُهُمْ فِي النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے نو کافر آبا و اجداد کی طرف اپنی نسبت کر کے اپنی عزت و شرافت میں فخر کرتا ہے وہ جہنم میں ان کے ساتھ دسواں فرد بن کر داخل ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17212]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، عبادة بن نسي لم يدرك أبا ريحانة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، عبادة بن نسي لم يدرك أبا ريحانة
حدیث نمبر: 17213 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ سُمَيْرٍ الرُّعَيْنِيَّ ، أَبَا عَامِرٍ التُّجِيبِيَّ ، أَبَا رَيْحَانَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سُمَيْرٍ الرُّعَيْنِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَامِرٍ التُّجِيبِيَّ ، قَالَ أَبِي: وَقَالَ غَيْرُهُ يَعْنِي غَيْرَ زَيْدٍ: أَبُو عَلِيٍّ الْجَنَبِيُّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا رَيْحَانَةَ ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَأَتَيْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى شَرَفٍ، فَبِتْنَا عَلَيْهِ، فَأَصَابَنَا بَرْدٌ شَدِيدٌ حَتَّى رَأَيْتُ مَنْ يَحْفِرُ فِي الْأَرْضِ حُفْرَةً يَدْخُلُ فِيهَا، يُلْقِي عَلَيْهِ الْحَجَفَةَ يَعْنِي: التُّرْسَ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّاسِ نَادَى:" مَنْ يَحْرُسُنَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَأَدْعُو لَهُ بِدُعَاءٍ يَكُونُ فِيهِ فَضْلٌ؟" فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" ادْنُهْ"، فَدَنَا، فَقَالَ:" مَنْ أَنْتَ؟" فَتَسَمَّى لَهُ الْأَنْصَارِيُّ، فَفَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدُّعَاءِ، فَأَكْثَرَ مِنْهُ، قَالَ أَبُو رَيْحَانَةَ: فَلَمَّا سَمِعْتُ مَا دَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَنَا رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ:" ادْنُهْ"، فَدَنَوْتُ، فَقَالَ:" مَنْ أَنْتَ؟" قَالَ: فَقُلْتُ: أَنَا أَبُو رَيْحَانَةَ، فَدَعَا بِدُعَاءٍ هُوَ دُونَ مَا دَعَا لِلْأَنْصَارِيِّ، ثُمَّ قَالَ: " حُرِّمَتْ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ دَمَعَتْ أَوْ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، وَحُرِّمَتْ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" ، وَقَالَ: حُرِّمَتْ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ أُخْرَى ثَالِثَةٍ لَمْ يَسْمَعْهَا مُحَمَّدُ بْنُ سُمَيْرٍ، قَالَ عَبْدِ الله: قَالَ أَبِي: وَقَالَ غَيْرُهُ يَعْنِي غَيْرَ زَيْدٍ: أَبُو عَلِيٍّ الْجَنَبِيُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی غزوہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شریک تھے رات کے وقت کسی ٹیلے پر پہنچے، رات وہاں گزاری تو شدید سردی نے آ لیا حتیٰ کہ میں نے دیکھا بعض لوگ زمین میں گڑھا کھود کر اس میں گھس جاتے ہیں، پھر ان کے اوپر ڈھالیں ڈال دی جاتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو جب اس حال میں دیکھا تو اعلان فرما دیا کہ آج رات کو کون پہرہ داری کرے گا، میں اس کے لیے دعا کروں گا کہ اس میں اللہ کا فضل شامل ہو گا، اس پر ایک انصاری نے اپنے آپ کو پیش کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو بلایا جب وہ قریب آیا تو پوچھا کہ تم کون ہو، اس نے اپنا نام بتایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لئے دعا شروع کر دی اور خوب دعا کی سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعائیں سنیں تو وہ آگے بڑھ کر عرض کر دیا کہ دوسرا آدمی میں ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قریب آؤ۔ میں قریب ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے بتایا کہ ابوریحانہ ہوں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے حق میں بھی دعائیں فرمائیں، جو اس انصاری کے حق میں کی جانے والی دعاؤں سے کچھ کم تھیں، پھر فرمایا: اس آنکھ پر جہنم کی آگ حرام ہے، جو اللہ کے خوف سے بہ پڑے اور اس آنکھ پر بھی جہنم کی آگ حرام ہے جو اللہ کے راستے میں جاگتی رہے، راوی کہتے ہیں کہ ایک تیسری آنکھ کا بھی ذکر کیا تھا لیکن محمد بن سمیر اسے سن نہیں سکے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17213]
حکم دارالسلام
مرفوعه حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن سمير، أبو على الجنبي هو الصواب ، ووهم فيه زيد بن الحباب فقال: أبو عامر التجيبي
الحكم: مرفوعه حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن سمير، أبو على الجنبي هو الصواب ، ووهم فيه زيد بن الحباب فقال: أبو عامر التجيبي