بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث العِربَاضِ بنِ سَارِیَةَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 24
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 17141 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَوَكِيعٌ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَوَكِيعٌ قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَسْتَغْفِرُ لِلصَّفِّ الْمُقَدَّمِ ثَلَاثًا، وَلِلثَّانِي مَرَّةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلی صف والوں کے لئے تین مرتبہ اور دوسری صف والوں کے لئے ایک مرتبہ استغفار کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17141]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد منقطع بين خالد بن معدان وبين العرباض
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد منقطع بين خالد بن معدان وبين العرباض
حدیث نمبر: 17142 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ ، الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ ، قَالَ: وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْعِظَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذِهِ لَمَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا؟ قَالَ: " قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ، وَمَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ، فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، وَعَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ كَالْجَمَلِ الْأَنِفِ حَيْثُمَا انْقِيدَ انْقَادَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایسا وعظ فرمایا کہ جس سے لوگوں کی آنکھیں بہنے لگیں اور دل لرزنے لگے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو ہمیں رخصتی کا وعظ معلوم ہوتا ہے، آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں ایسی واضح شریعت پر چھوڑ کر جا رہا ہوں جس کی رات اور دن برابر ہیں، میرے بعد جو بھی اس سے کجی اختیار کرے گا وہ ہلاک ہو گا اور تم میں سے جو شخص زندہ رہے گا وہ عنقریب بہت سے اختلافات دیکھے گا لہٰذا تم میری جو سنت جانتے ہو اور خلفائے راشدین مھدیین کی سنتوں کو اپنے اوپر لازم پکڑو اور امیر کی اطاعت اپنے اوپر لازم کر لو خواہ وہ ایک حبشی غلام ہی ہوں ان باتوں کو اچھی طرح محفوظ کر لو کیونکہ مسلمان تو فرمابردار اونٹ کی طرح ہوتا ہے کہ اسے جہاں لے جایا جائے وہ چل پڑتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17142]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17143 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ ، الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي رُهْمٍ ، عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّحُورِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: " هَلُمَّ إِلَى هَذَا الْغَذَاءِ الْمُبَارَكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ماہ رمضان نے مجھے ایک مرتبہ سحری کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: اس مبارک کھانے کے لئے آ جاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17143]
حکم دارالسلام
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الحارث بن زياد، ويونس بن سيف مجهول
الحكم: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الحارث بن زياد، ويونس بن سيف مجهول
حدیث نمبر: 17144 مسند احمد
الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثَوْرٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ ، عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً، ذَرَفَتْ لَهَا الْأَعْيُنُ، وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، قُلْنَا أَوْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَأَوْصِنَا، قَالَ: " أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ يَرَى بَعْدِي اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر ایسا وعظ فرمایا کہ جس سے لوگوں کی آنکھیں بہنے لگیں اور دل لرزنے لگے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو رخصتی کا وعظ معلوم ہوتا ہے، آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں ایسی واضح شریعت پر چھوڑ کر جا رہا ہوں جس کی رات اور دن برابر ہیں، میرے بعد جو بھی اس سے کجی اختیار کرے گا، وہ ہلاک ہو گا، اور تم میں سے جو شخص زندہ رہے گا، وہ عنقریب بہت سے اختلافات دیکھے گا، لہٰذا تم میری جو سنتیں جانتے ہو اور خلفائے راشدین مھدیین کی سنتوں کو اپنے اوپر لازم پکڑو اور امیر کی اطاعت اپنے اوپر لازم کر لو خواہ وہ ایک حبشی غلام ہی ہو، ان باتوں کو اچھی طرح محفوظ کر لو، اور نو ایجاد چیزوں سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ ہر نو ایجاد چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17144]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17145 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو السُّلَمِيُّ ، وَحُجْرُ بْنُ حُجْرٍ ، عِرْبَاضٌ
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو السُّلَمِيُّ ، وَحُجْرُ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا: أَتَيْنَا الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ وَهُوَ مِمَّنْ نَزَلَ فِيهِ: وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ: لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْنَا، وَقُلْنَا: أَتَيْنَاكَ زَائِرِينَ، وَعَائِدِينَ، وَمُقْتَبِسِينَ، فَقَالَ عِرْبَاضٌ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ذَاتَ يَوْمٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا؟ فَقَالَ: " أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، فَتَمَسَّكُوا بِهَا، وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن عمرو اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ (جن کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی تھی) ان لوگوں پر کوئی حرج نہیں جو آپ کے پاس آتے ہیں تاکہ انہیں سوار کر دیں۔۔۔ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے انہیں سلام کر کے عرض کیا کہ ہم آپ سے ملاقات کے لئے، عیادت کے لئے اور آپ سے استفادے کے لیے حاضر ہوئے ہیں، انہوں فرمایا: ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر ایسا وعظ فرمایا کہ جس سے لوگوں کی آنکھیں بہنے لگیں اور دل لرزنے لگے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ!! یہ تو رخصتی کا وعظ معلوم ہوتا ہے، آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں ایسی واضح شریعت پر چھوڑ کر جا رہا ہوں جس کی رات اور دن برابر ہیں، میرے بعد جو بھی اس سے کجی اختیار کرے گا، وہ ہلاک ہو گا، اور تم میں سے جو شخص زندہ رہے گا، وہ عنقریب بہت سے اختلافات دیکھے گا، لہٰذا تم میری جو سنتیں جانتے ہو اور خلفائے راشدین مھدیین کی سنتوں کو اپنے اوپر لازم پکڑو اور امیر کی اطاعت اپنے اوپر لازم کر لو خواہ وہ ایک حبشی غلام ہی ہو، ان باتوں کو اچھی طرح محفوظ کر لو، اور نو ایجاد چیزوں سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ ہر نو ایجاد چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17145]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17146 مسند احمد
حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، بَقِيَّةُ ، بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ، عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَظَهُمْ يَوْمًا بَعْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَذَكَرَهُ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17146]
حکم دارالسلام
صحيح، بقية بن الوليد مدلس، يدلس تدليس التسوية، لكنه توبع، وابن أبى بلال مجهول
الحكم: صحيح، بقية بن الوليد مدلس، يدلس تدليس التسوية، لكنه توبع، وابن أبى بلال مجهول
حدیث نمبر: 17147 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ، الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَظَهُمْ يَوْمًا بَعْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17147]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن أبى بلال مجهول
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن أبى بلال مجهول
حدیث نمبر: 17148 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَسْتَغْفِرُ لِلصَّفِّ الْمُقَدَّمِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، وَلِلثَّانِي مَرَّةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلی صف والوں کے لئے تین مرتبہ اور دوسری صف والوں کے لئے ایک مرتبہ استغفار فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17148]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع بين خالد بن معدان وبين العرباض بن سارية
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع بين خالد بن معدان وبين العرباض بن سارية
حدیث نمبر: 17149 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، سَعِيدِ بْنِ هَانِئٍ ، الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ ، قَالَ: بِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِنِي ثَمَنَ بَكْرِي، فَقَالَ:" أَجَلْ لَا أَقْضِيكَهَا إِلَّا لِحِينه"، قَالَ: فَقَضَانِي، فَأَحْسَنَ قَضَائِي، قَالَ: وَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِنِي بَكْرِي، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ جَمَلًا قَدْ أَسَنَّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا خَيْرٌ مِنْ بَكْرِي، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ خَيْرَ الْقَوْمِ خَيْرُهُمْ قَضَاءً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ جوان اونٹ فروخت کیا، کچہ عرصہ بعد میں قیمت کا تقاضہ کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے اونٹ کی قیمت ادا کر دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بہت اچھا، میں تمہیں اس کی قیمت میں چاندی ہی دوں گا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خوب بہترین طریقہ سے اس کی قیمت ادا کی۔ تھوڑی دیر بعد ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! مجھے میرا اونٹ دے دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک پکی عمر کا اونٹ دے دیا، اس نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تو میرے اونٹ سے بہت عمدہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بہترین وہ ہے جو ادائیگی میں سب سے بہترین ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17149]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17150 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْكَلْبِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِلَالٍ السُّلَمِيِّ ، عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْكَلْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِلَالٍ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ لَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام لَمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ، وَسَأُنَبِّئُكُمْ بِأَوَّلِ ذَلِكَ دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ، وَبِشَارَةُ عِيسَى بِي، وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ، وَكَذَلِكَ أُمَّهَاتُ النَّبِيِّينَ تَرَيْنَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عرباض رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اس وقت بھی اللّٰہ کا بندہ اور خاتم النبیین تھا جب کہ سیدنا آدم علیہ السلام ابھی گارے میں ہی لتھڑے ہوئے تھے، اور میں تمہیں اس کی ابتداء بتاتا ہوں، میں اپنے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور اپنی والدہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے دیکھا تھا اور تمام انبیاء کی مائیں اسی طرح خواب دیکھتی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17150]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: «وكذلك أمهات المؤمنين ترين» ، وهذا إسناد ضعيف لضعف سعيد بن سويد الكلبي، واسم عبد الله بن هلال خطأ، والصواب: عبدالأعلى بن هلال، فهو مجهول الحال
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: «وكذلك أمهات المؤمنين ترين» ، وهذا إسناد ضعيف لضعف سعيد بن سويد الكلبي، واسم عبد الله بن هلال خطأ، والصواب: عبدالأعلى بن هلال، فهو مجهول الحال
حدیث نمبر: 17151 مسند احمد
أَبُو الْعَلَاءِ وَهُوَ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، لَيْثٌ ، مُعَاوِيَةَ ، سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ هِلَالٍ السُّلَمِيِّ ، عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ وَهُوَ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ هِلَالٍ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنِّي عِنْدَ اللَّهِ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ" فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ: أَنَّ أُمَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَتْ حِينَ وَضَعَتْهُ نُورًا أَضَاءَتْ مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی والدہ نے بچے کی پیدائش کے وقت ایک نور دیکھا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17151]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف سعيد بن سويد، ولجهالة حال عبدالأعلى بن هلال
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف سعيد بن سويد، ولجهالة حال عبدالأعلى بن هلال
حدیث نمبر: 17152 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ ، الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي رُهْمٍ ، الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو إِلَى السَّحُورِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ: " هَلُمَّ إِلَى الْغِذَاءِ الْمُبَارَكِ" . ثُمَّ سَمِعْتُهُ ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ، وَالْحِسَابَ، وَقِهِ الْعَذَابَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عباس بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ماہ رمضان میں مجھے ایک مرتبہ سحری کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: اس مبارک کھانے کے لئے آ جاؤ۔ پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اے اللہ! معاویہ کو حساب اور کتاب کا علم عطا فرما اور اسے عذاب سے محفوظ فرما۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17152]
حکم دارالسلام
حديث السحور منه حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الحارث بن زياد
الحكم: حديث السحور منه حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الحارث بن زياد
حدیث نمبر: 17153 مسند احمد
أَبُو عَاصِمٍ ، وَهْبُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ ، أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ الْعِرْبَاضِ ، أَبِي
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ الْعِرْبَاضِ ، قَالَتْ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَرَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ كُلَّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ، وَلُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَالْخَلِيسَةَ، وَالْمُجَثَّمَةَ، وَأَنْ تُوطَأَ السَّبَايَا حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر کے دن پنجوں سے شکار کرنے والے ہر پرندے پالتو گدھوں کے گوشت جانوروں کے منہ سے چھڑائے ہوئے مردار جانور، نشانہ سیدھا کیے جانے والے جانور اور وضع حمل سے قبل باندیوں سے ہمبستری کرنے سے منع فرما دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17153]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: «والخليسة» فحسن لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: «والخليسة» فحسن لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 17154 مسند احمد
أَبُو عَاصِمٍ ، وَهْبٌ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ ، أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ الْعِرْبَاضِ ، أَبِيهَا
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ الْعِرْبَاضِ ، عَنْ أَبِيهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْخُذُ الْوَبَرَةَ مِنْ فَيْءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيَقُولُ: " مَا لِي مِنْ هَذَا إِلَّا مِثْلَ مَا لِأَحَدِكُمْ إِلَّا الْخُمُسَ، وَهُوَ مَرْدُودٌ فِيكُمْ، فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمَخِيطَ فَمَا فَوْقَهُمَا، وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ، فَإِنَّهُ عَارٌ وَشَنَارٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مال غنیمت میں سے ایک بال اٹھاتے اور فرماتے اس میں سے میرا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا تم میں سے کسی کا ہے سوائے خمس کے اور وہ بھی تم پر ہی لوٹا دیا جاتا ہے لہٰذا دھاگہ اور سوئی یا اس سے بھی کم درجے کی چیز ہو تو وہ واپس کر دو اور مال غنیمت میں خیانت سے بچو کیونکہ وہ قیامت کے دن خائن کے لیے باعث عار و ندامت ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17154]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 17155 مسند احمد
أَبُو جَعْفَرٍ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، عَبَّادُ ابْنُ الْعَوَّامِ ، سُفْيَانَ بْنِ الْحُسَيْنِ ، خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ ، الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَبَّادُ ابْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا سَقَى امْرَأَتَهُ مِنَ الْمَاءِ أُجِرَ" ، قَالَ: فَأَتَيْتُهَا، فَسَقَيْتُهَا، وَحَدَّثْتُهَا بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو پانی پلاتا ہے تو اسے اس پر بھی اجر ملتا ہے , چنانچہ میں اپنی بیوی کے پاس آیا اور اسے پانی پلایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث اسے سنائی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17155]
حکم دارالسلام
صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه بين خالد والعرباض بن سارية، وخالد بن سعد هو خالد بن زيد على الصواب
الحكم: صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه بين خالد والعرباض بن سارية، وخالد بن سعد هو خالد بن زيد على الصواب
حدیث نمبر: 17156 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ ، الْعِرْبَاضَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ الْعِرْبَاضَ حَدَّثَهُ، وَكَانَ الْعِرْبَاضُ بن سارية من أصحاب الصفة قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي عَلَى الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ ثَلَاثًا، وَعَلَى الثَّانِي وَاحِدَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلی صف والوں کے لئے تین مرتبہ اور دوسری صف والوں کے لئے ایک مرتبہ استغفار فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17156]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17157 مسند احمد
حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ ثَلَاثًا، وَعَلَى الَّذِي يَلِيهِ وَاحِدَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلی صف والوں کے لئے تین مرتبہ اور دوسری صف والوں کے لئے ایک مرتبہ استغفار فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17157]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، بقية بن الوليد يدلس ويسوي، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، بقية بن الوليد يدلس ويسوي، لكنه متابع
حدیث نمبر: 17158 مسند احمد
هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، ابْنُ عَيَّاشٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ ، صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي فِي ظِلِّ عَرْشِي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي" ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میری عزت کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے میرے عرش کے سائے میں ہوں گے اس دن میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17158]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17159 مسند احمد
حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيَّ ، وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، بَقِيَّةُ ، بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ، عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيَّ ، وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَخْتَصِمُ الشُّهَدَاءُ وَالْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فِي الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنَ الطَّاعُونِ، فَيَقُولُ الشُّهَدَاءُ: إِخْوَانُنَا قُتِلُوا كَمَا قُتِلْنَا، وَيَقُولُ الْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ: إِخْوَانُنَا مَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ كَمَا مِتْنَا عَلَى فُرُشِنَا، فَيَقُولُ رَبُّنا عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى جِرَاحِهِمْ، فَإِنْ أَشْبَهَتْ جِرَاحُهُمْ جِرَاحَ الْمَقْتُولِينَ، فَإِنَّهُمْ مِنْهُمْ وَمَعَهُمْ، فَإِذَا جِرَاحُهُمْ قَدْ أَشْبَهَتْ جِرَاحَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طاعون کی وبا کے متعلق پروردگار عالم کے سامنے شہداء اور طبی موت مرنے والوں کے درمیان جھگڑا ہو گا، شہداء کہیں گے کہ یہ ہمارے بھائی ہیں اور ہماری طرح شہید ہوئے اور طبعی موت مرنے والے کہیں گے یہ ہمارے بھائی ہیں ہماری طرح اپنے بستروں پر فوت ہوئے ہیں، پروردگار فرمائے گا کہ ان کے زخم دیکھو اگر ان کے زخم شہداء کے زخموں جیسے ہوں تو یہ شہداء میں شمار ہو کر ان کے ساتھ ہوں گے، جب دیکھا جائے گا تو ان کے زخم شہداء کے زخموں کے مشابہ ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17159]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن أبى بلال مجهول، وبقية بن الوليد يدلس ويسوي، لكنه متابع
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن أبى بلال مجهول، وبقية بن الوليد يدلس ويسوي، لكنه متابع
حدیث نمبر: 17160 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ، عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ الْمُسَبِّحَاتِ قَبْلَ أَنْ يَرْقُدَ"، وَقَالَ:" إِنَّ فِيهِنَّ آيَةً أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ آيَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سونے سے پہلے «سبحِ» کے لفظ سے شروع ہونے والی سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17160]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ابن أبى بلال، وبقية يدلس ويسوي، ولم يصرح بالتحديث فى جميع طبقات الإسناد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ابن أبى بلال، وبقية يدلس ويسوي، ولم يصرح بالتحديث فى جميع طبقات الإسناد