عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، سَعِيدِ بْنِ هَانِئٍ ، الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ ، قَالَ: بِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِنِي ثَمَنَ بَكْرِي، فَقَالَ:" أَجَلْ لَا أَقْضِيكَهَا إِلَّا لِحِينه"، قَالَ: فَقَضَانِي، فَأَحْسَنَ قَضَائِي، قَالَ: وَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِنِي بَكْرِي، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ جَمَلًا قَدْ أَسَنَّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا خَيْرٌ مِنْ بَكْرِي، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ خَيْرَ الْقَوْمِ خَيْرُهُمْ قَضَاءً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ جوان اونٹ فروخت کیا، کچہ عرصہ بعد میں قیمت کا تقاضہ کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے اونٹ کی قیمت ادا کر دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بہت اچھا، میں تمہیں اس کی قیمت میں چاندی ہی دوں گا“، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خوب بہترین طریقہ سے اس کی قیمت ادا کی۔ تھوڑی دیر بعد ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! مجھے میرا اونٹ دے دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک پکی عمر کا اونٹ دے دیا، اس نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تو میرے اونٹ سے بہت عمدہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سب سے بہترین وہ ہے جو ادائیگی میں سب سے بہترین ہو۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17149]
الحكم: إسناده صحيح