حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَبَيْنَ خَالَةِ أَبِيهَا، وَالْمَرْأَةِ وَخَالَةِ أُمِّهَا، أَوْ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّةِ أَبِيهَا، أَوْ الْمَرْأَةِ وَعَمَّةِ أُمِّهَا، فَقَالَ: قَالَ قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا، وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا" . فَنَرَى خَالَةَ أُمِّهَا، وَعَمَّةَ أُمِّهَا، بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ، وَإِنْ كَانَ مِنَ الرَّضَاعِ يَكُونُ مِنْ ذَلِكَ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امام زہری رحمہ اللہ سے کسی شخص نے پوچھا کہ کیا کوئی آدمی اپنے نکاح میں ایک عورت اور اس کے باپ کی خالہ کو یا اس کی ماں کی خالہ کو یا اس کے باپ کی پھوپھی کو یا اس کی پھوپھی کو جمع کرسکتا ہے؟ انہوں نے قبیصہ بن ذؤیب کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک عورت اور اس کی خالہ یا پھوپھی کو نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت فرمائی ہے اور ہماری رائے یہ ہے کہ اس کی ماں کی خالہ اور پھوپھی بھی اسی زمرے میں آتی ہے اور رضاعت کا رشتہ ہو تو وہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9834]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408