بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 9821
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 9821
حدیث نمبر: 9821 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ. قَالَ: فَلَطَمَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: تَقُولُ هَذَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا. قَالَ: فَأَتَى الْيَهُودِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ سورة الزمر آية 68، قَالَ: " فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَرَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلِي، أَمْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ أَنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى، فَقَدْ كَذَبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ (ایک مرتبہ دو آدمیوں میں " جن میں سے ایک مسلمان اور دوسرا یہودی تھا " تلخ کلامی ہوگئی مسلمان نے اپنی بات پر قسم کھاتے ہوئے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تمام جہان والوں پر برگزیدہ کیا اور) یہودی نے قسم کھاتے ہوئے کہہ دیا کہ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہان والوں پر برگزیدہ کیا اس پر مسلمان کو غصہ آیا اور اس یہودی کو ایک طمانچہ دے مارا اور اس سے کہا کہ تو یہ بات کہہ رہا ہے جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں اس یہودی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس دن صور پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان کی تمام مخلوقات بیہوش ہوجائیں گی سوائے اس کے جسے اللہ چاہے پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ دیکھتے بھالتے کھڑے ہوجائیں گے سب سے پہلے مجھے افاقہ ہوگا میں اس وقت دیکھوں گا کہ موسیٰ نے عرش کے پائے کو پکڑ رکھا ہے مجھے معلوم نہیں کہ وہ بھی بیہوش ہونے والوں میں سے ہوں گے کہ انہیں مجھ سے قبل افاقہ ہوگیا یا ان لوگوں میں سے ہوں گے جہنیں اللہ نے مستثنیٰ قرار دیا ہے اور جو شخص یہ کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں وہ جھوٹ بولتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9821]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2411، م: 2373
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2411، م: 2373
← پچھلی حدیث (9820) باب پر واپس اگلی حدیث (9822) →