وَكِيعٌ ، عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ، كِدَامِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، أَبِي كِبَاشٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ، عَنْ كِدَامِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي كِبَاشٍ ، قَالَ: جَلَبْتُ غَنَمًا جُذْعَانًا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَكَسَدَتْ عَلَيَّ، فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " نِعْمَ , أَوْ نِعْمَتِ الْأُضْحِيَّةُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ"، فَانْتَهَبَهَا النَّاسُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوکباش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ بھیڑ کے چند بچے مدینہ منورہ امپورٹ کرکے لے گیا لیکن وہاں مجھے نقصان ہوا اتفاقاً حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی میں نے ان سے کچھ سوال جواب کئے انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قربانی کے لئے بھیڑ کا بچہ بہترین جانور ہے راوی کے بقول پھر لوگ اسے لے اڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9739]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة كدام، وأبي كباش
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة كدام، وأبي كباش