بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 9456
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 9456
حدیث نمبر: 9456 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، مُغِيرَةَ ، إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ، فَمَنْ ابْتَاعَ مُصَرَّاةً فَهُوَ بِآخِرِ النَّظَرَيْنِ، إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، وَلَا تَسْأَلْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اچھے داموں فروخت کرنے کے لئے بکری یا اونٹنی کا تھن مت باندھا کرو جو شخص (اس دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔ اور تاجروں سے باہر باہر ہی مل کر سودا مت کیا کرو۔ اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے اور ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو اور ایک دوسرے کی بیع پر بیع مت کرو اور کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان تجارت فروخت نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9456]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 2151 ، م: 1524 ، وھذا إسناد منقطع ، إبراھیم النخعي لم یسمع من أبي ھریرۃ
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 2151 ، م: 1524 ، وھذا إسناد منقطع ، إبراھیم النخعي لم یسمع من أبي ھریرۃ
← پچھلی حدیث (9455) باب پر واپس اگلی حدیث (9457) →