إِبْرَاهِيمُ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ: يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا سورة الزلزلة آية 4، قَالَ: " أَتَدْرُونَ مَا أَخْبَارُهَا؟"، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" فَإِنَّ أَخْبَارَهَا: أَنْ تَشْهَدَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ وَأَمَةٍ بِمَا عَمِلَ عَلَى ظَهْرِهَا، أَنْ تَقُولَ: عَمِلْتَ عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا"، قَالَ:" فَهُوَ أَخْبَارُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس دن زمین اپنی ساری خبریں بیان کردے گی اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ زمین کی خبروں سے کیا مراد ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں فرمایا زمین کی خبروں سے مراد یہ ہے کہ زمین ہر مرد و عورت کے متعلق ان تمام اعمال کی گواہی دے گی جو انہوں نے اس کی پشت پر رہ کر کئے ہوں گے اور وہ کہے گی کہ تو نے فلاں دن فلاں عمل کیا تھا یہ مراد ہے زمین کی خبروں سے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8867]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، يحيى ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف، يحيى ضعيف