وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيَفْرَحُ أَحَدُكُمْ بِرَاحِلَتِهِ إِذَا ضَلَّتْ مِنْهُ ثُمَّ وَجَدَهَا؟" قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ إِذَا تَابَ مِنْ أَحَدِكُمْ بِرَاحِلَتِهِ إِذَا وَجَدَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی شخص کی سواری گم ہوجائے اور کچھ دیر کے بعد دوبارہ مل جائے تو وہ خوش ہوتا ہے یا نہیں؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے۔ اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے جب وہ توبہ کرتا ہے اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جو کسی کو اپنی سواری ملنے پر ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8192]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2747
الحكم: إسناده صحيح، م: 2747