وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَلَا تَأْذَنُ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ كَسْبِهِ عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ، فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِهِ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت جبکہ اس کا خاوند گھر میں موجود ہو کوئی نفلی روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے اور کوئی عورت اپنے خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کسی کو اس کے گھر میں نہ آنے دے اور عورت اس کے حکم کے بغیر جو کچھ خرچ کرتی ہے اس کا نصف ثواب اس کے شوہر کو ملتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8188]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5195، م: 1026
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5195، م: 1026