وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ الشَّمْسُ"، قَالَ:" تَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَتُعِينُ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ تَحْمِلُهُ عَلَيْهَا أَوْ تَرْفَعُ لَهُ مَتَاعَهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ"، وَقَالَ:" الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ"، وَقَالَ:" كُلُّ خُطْوَةٍ يَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ، وَتُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان کے ہر عضو پر صدقہ ہے اور یہ حکم روزانہ کا ہے جب تک سورج طلوع ہوتا رہے نیز فرمایا کہ دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا بھی صدقہ ہے کسی کو جانور پر سوار ہونے میں مدد فراہم کرنا یا اس پر کسی کا سامان لادنا بھی صدقہ ہے اچھی بات بھی صدقہ ہے اور جو قدم مسجد کی طرف اٹھاؤ وہ بھی صدقہ ہے اور راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا بھی صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8183]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2707، م: 1009
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2707، م: 1009