إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ الْأَصَمُّ ، السُّدِّيَّ إِسْمَاعِيلَ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ الْأَصَمُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ السُّدِّيَّ إِسْمَاعِيلَ يَذْكُرُهُ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ قَدْ مَاتَ، قَالَ:" اذْهَبْ فَوَارِهِ، ثُمَّ لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي"، قَالَ: فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ، قَالَ:" اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ، ثُمَّ لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي"، قَالَ: فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ، قَالَ: فَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا حُمْرَ النَّعَمِ وَسُودَهَا، قَالَ: وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا غَسَّلَ الْمَيِّتَ اغْتَسَلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں ابوطالب کی وفات کی خبر دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جا کر انہیں کسی گڑھے میں چھپا دو، اور میرے پاس آنے سے پہلے کوئی دوسرا کام نہ کرنا۔“ چنانچہ جب میں انہیں کسی گڑھے میں اتار کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس واپس آیا تو مجھ سے فرمایا کہ ”جا کر غسل کرو، اور میرے پاس آنے سے پہلے کوئی دوسرا کام نہ کرنا۔“ چنانچہ میں غسل کر کے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اتنی دعائیں دیں کہ مجھے ان کے بدلے سرخ یا سیاہ اونٹ ملنے پر اتنی خوشی نہ ہوتی۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب بھی کسی میت کو غسل دیا تو خود بھی غسل کر لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 807]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر