بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 7918
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 7918
حدیث نمبر: 7918 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرَةً، فَعَوَّضَهُ منها سِتَّ بَكَرَاتٍ، فَتَسَخَّطَهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ فُلَانًا أَهْدَى إِلَيَّ نَاقَةً، وَهِيَ نَاقَتِي، أَعْرِفُهَا كَمَا أَعْرِفُ بَعْضَ أَهْلِي، ذَهَبَتْ مِنِّي يَوْمَ زَغَابَاتٍ، فَعَوَّضْتُهُ سِتَّ بَكَرَاتٍ، فَظَلَّ سَاخِطًا، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ، أَوْ دَوْسِيٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک جوان اونٹ کا ہدیہ پیش کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے چھ جوان اونٹ عطا فرمائے لیکن وہ اس پر بھی ناخوش رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب معلوم ہوا تو اللہ کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ فلاں آدمی نے مجھے اونٹ ہدیہ کے طور پر دیا حالانکہ وہ میرا ہی اونٹ تھا اور میں اسے اسی طرح پہنچاتا تھا جیسے اپنے کسی گھر والے کو پہچانتا ہوں یوم زغابات کے موقع پر وہ میرے ہاتھ سے نکل گیا تھا (لیکن پھر بھی میں نے اسے قبول کرلیا) اور اسے چھ جوان اونٹ دیئے تاہم وہ اس پر بھی ناخوش ہے میں تو یہ ارادہ کر رہا ہوں کہ آئندہ کسی شخص سے ہدیہ قبول نہ کروں سوائے اس کے جو قریش یا انصار یا ثقیف یا دوس سے تعلق رکھتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7918]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر، لكنه قد توبع.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر، لكنه قد توبع.
← پچھلی حدیث (7917) باب پر واپس اگلی حدیث (7919) →