يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ: لَا تَضْرِبُوا عَلَيَّ فُسْطَاطًا، وَلَا تَتْبَعُونِي بِمِجْمَرٍ، وَأَسْرِعُوا بِي، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ: قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي، وَإِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ السُّوءُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ: يَا وَيْلَهُ! أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبد الرحمن بن مہران رحمتہ اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو فرمانے لگے مجھ پر کوئی خیمہ نہ لگانا میرے ساتھ آگ نہ لے کر جانا اور مجھے جلدی لے جانا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب کسی نیک آدمی کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے مجھے جلدی آگے بھیجو مجھے جلدی آگے بھیجو اور اگر کسی گناہگار آدمی کو چارپائی پر رکھاجائے تو وہ کہتا ہے ہائے افسوس مجھے کہاں لئے جاتے ہو؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7914]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 1314، م: 944.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 1314، م: 944.