يَزِيدُ ، سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ : إِذَا أَتَيْتَ أَهْلَ مِصْرِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَوَّلُ شَيْءٍ ما يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ الْمَكْتُوبَةُ، فَإِنْ صَلَحَتْ وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً: فَإِنْ أَتَمَّهَا، وَإِلَّا زِيدَ فِيهَا مِنْ تَطَوُّعِهِ، ثُمَّ يُفْعَلُ بِسَائِرِ الْأَعْمَالِ الْمَفْرُوضَةِ كَذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
انس بن حکیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب تم اپنے شہر والوں کے پاس پہنچو تو انہیں بتادینا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ فرض نماز ہوگی اگر وہ صحیح نکل آئی تو بہت اچھا ورنہ نوافل کے ذریعے اس میں اضافہ کیا جائے اس کے بعد دیگر فرض اعمال میں بھی اسی طرح کیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7902]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أنس مجهول، وعلي ضعيف.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أنس مجهول، وعلي ضعيف.