عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا عَدْوَى، وَلَا صَفَرَ، وَلَا هَامَةَ"، قَالَ أَعْرَابِيٌّ: فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيُجْرِبُهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَمَنْ كَانَ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی صفر کا مہینہ منحوس نہیں ہوتا اور کھوپڑی سے کیڑا نکلنے کی کوئی حقیقت نہیں ایک دیہاتی کہنے لگا کہ پھر اونٹوں کا کیا معاملہ ہے جو صحرا میں ہر نوں کی طرح چوکڑیاں بھرتے ہیں اچانک ان میں ایک خارشی اونٹ شامل ہوجاتا ہے اور سب کو خارش زدہ کردیتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اس سے پہلے اونٹ کو خارش کہاں سے لگی؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7620]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5717، م: 2220.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5717، م: 2220.