مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، نَاجِيَةَ بْنَ كَعْبٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَاجِيَةَ بْنَ كَعْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبَا طَالِبٍ مَاتَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ فَوَارِهِ"، فَقَالَ: إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا، فَقَالَ:" اذْهَبْ فَوَارِهِ"، قَالَ: فَلَمَّا وَارَيْتُهُ، رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:" اغْتَسِلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں ابوطالب کی وفات کی خبر دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جا کر انہیں کسی گڑھے میں چھپا دو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ تو شرک کی حالت میں مرے ہیں (میں کیسے ان کو قبر میں اتاروں؟) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر یہی فرمایا کہ ”جا کر انہیں کسی گڑھے میں چھپا دو۔“ جب میں انہیں کسی گڑھے میں اتار کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس واپس آیا تو مجھ سے فرمایا کہ ”جا کر غسل کرو۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 759]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر