يَزِيدُ ، ابْنُ عَوْنٍ ، أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَكُنْتُ إِذَا مَشَيْتُ سَبَقَنِي، فَأُهَرْوِلُ، فَإِذَا هَرْوَلْتُ سَبَقْتُهُ، فَالْتَفَتُّ إِلَى رَجُلٍ إِلَى جَنْبِي، فَقُلْتُ: تُطْوَى لَهُ الْأَرْضُ، وَخَلِيلِ إِبْرَاهِيمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی جنازے میں گیا میں جب اپنی رفتار سے چل رہا ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ سے آگے بڑھ جاتے پھر میں دوڑنا شروع کردیتا تو میں آگے نکل جاتا اچانک میری نظر اپنے پہلو کے ایک آدمی پر پڑی تو میں نے اپنے دل میں سوچا کہ خلیل ابراہیم کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے زمین کو لپیٹ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7506]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبي محمد عبدالرحمن.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبي محمد عبدالرحمن.