وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَتْ لِي مِائَةُ دِينَارٍ، فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، وَقَالَ الْآخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ لِي عَشَرَةُ دَنَانِيرَ، فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِدِينَارٍ، وَقَالَ الْآخَرُ: كَانَ لِي دِينَارٌ، فَتَصَدَّقْتُ بِعُشْرِهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّكُمْ فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ، كُلُّكُمْ تَصَدَّقَ بِعُشْرِ مَالِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان میں سے ایک نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس سو دینار تھے جن میں سے میں نے دس دینار صدقہ کر دئیے، دوسرے نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس دس دینار تھے، میں نے ان میں سے ایک دینار صدقہ کر دیا، اور تیسرے نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک دینار تھا، میں نے اس کا دسواں حصہ صدقہ کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب کو برابر برابر اجر ملے گا، اس لئے کہ تم سب نے اپنے مال کا دسواں حصہ صدقہ کیا ہے۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 743]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور، وعنعنة أبى إسحاق
الحكم: إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور، وعنعنة أبى إسحاق