سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: لَا وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ مَا أَنَا قُلْتُ:" مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا، فَلَا يَصُومُ" مُحَمَّدٌ وَرَبِّ الْبَيْتِ قَالَهُ، مَا أَنَا نَهَيْتُ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، مُحَمَّدٌ نَهَى عَنْهُ وَرَبِّ الْبَيْتِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس بیت اللہ کے رب کی قسم یہ بات میں نے نہیں کہی کہ جو آدمی حالت ت میں صبح کرے وہ روزہ نہ رکھے بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم یہ بات محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمائی ہے اور جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے میں نے منع نہیں کیا بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7388]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وفي هذا الإسناد عبدالله بن عمرو القاري، وقد تفرد بالرواية عنه يحيى، وقد توبع أيضاً.
الحكم: حديث صحيح، وفي هذا الإسناد عبدالله بن عمرو القاري، وقد تفرد بالرواية عنه يحيى، وقد توبع أيضاً.