سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أُرْسِلَ عَلَى أَيُّوبَ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَقْبِضُهَا فِي ثَوْبِهِ، فَقِيلَ: يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ يَكْفِكَ مَا أَعْطَيْنَاكَ؟! قَالَ: أَيْ رَبِّ، وَمَنْ يَسْتَغْنِي عَنْ فَضْلِكَ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے کہ ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوب علیہ السلام پر سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب! کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار! آپ کے فضل سے کون مستغنی رہ سکتا ہے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7309]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 279، لكن هو هنا موقوف على أبي هريرة.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 279، لكن هو هنا موقوف على أبي هريرة.