مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ مَا الْغِيَابَةُ؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا لَيْسَ فِيهِ"، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ لَهُ؟ يَعْنِي، قَالَ" إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدْ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدْ بَهَتَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: کہ تم لوگ جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر ایک ایسے عیب کے ساتھ کرو جو اس میں نہ ہو کسی نے پوچھا کہ یہ بتائیے اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جو میں اس کی غیر موجودگی میں بیان کروں تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7146]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2589
الحكم: إسناده صحيح، م: 2589