يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيِدَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيِدَ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكْتُبُ مَا أَسْمَعُ مِنْكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قُلْتُ: فِي الرِّضَا وَالسُّخْطِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِي أَنْ أَقُولَ فِي ذَلِكَ إِلَّا حَقًّا"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ فِي حَدِيثِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَسْمَعُ مِنْكَ أَشْيَاءَ فَأَكْتُبُهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگارہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! میں آپ سے جو باتیں سنتا ہوں انہیں لکھ لیا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں میں نے پوچھا رضامندی اور ناراضگی دونوں حالتوں میں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں کیونکہ میری زبان سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6930]
الحكم: صحيح لغيره.