بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 6908
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 6908
حدیث نمبر: 6908 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : أَخْبِرْنِي بِأَشَدِّ شَيْءٍ صَنَعَهُ الْمُشْرِكُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ، إِذْ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ، فَأَخَذَ بِمَنْكِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوَى ثَوْبَهُ فِي عُنُقِهِ، فَخَنَقَهُ بِهِ خَنْقًا شَدِيدًا، فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَخَذَ بِمَنْكِبِهِ، وَدَفَعَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: أَتَقْتُلُونَ رَجُلا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ سورة غافر آية 28.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ بن زبیررحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے کسی ایسے سخت واقعے کے متعلق بتایئے جو مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ روا رکھا ہو؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحن کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے اسی دوران عقبہ بن ابی معیط آگیا اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کندھا پکڑا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک گردن میں کپڑا لپیٹ کر اسے زور زور سے گھونٹنا شروع کر دیا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو وہ فورا آئے اور اسے کندھے سے پکڑ کر دور کیا اور فرمایا: کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرنا چاہتے ہو جس کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ یہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے جب کہ وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے واضح دلائل بھی لے کر آیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6908]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4815.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4815.
← پچھلی حدیث (6907) باب پر واپس اگلی حدیث (6909) →