نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، الْحَجَّاجِ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَتَتَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَيْهِمَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتُحِبَّانِ أَنْ سَوَّرَكُمَا اللَّهُ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟" قَالَتَا: لَا، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَأَدِّيَا حَقَّ اللَّهِ عَلَيْكُمَا فِي هَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ دو یمنی عورتیں آئیں جن کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دونوں اس بات کو پسند کر تی ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے؟ وہ کہنے لگیں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر تمہارے ہاتھوں میں جو کنگن ہیں ان کا حق ادا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6901]
الحكم: حديث حسن.