بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 69
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 69
سُفْيَانُ ، ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ، أَبُو بَكْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ، أظنه قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ الصَّلَاحُ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ؟ قَالَ:" يَرْحَمُكَ اللَّهُ يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَسْتَ تَمْرَضُ؟ أَلَسْتَ تَحْزَنُ؟ أَلَسْتَ تُصِيبُكَ اللَّأْوَاءُ؟" قَالَ: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّ ذَاكَ بِذَاكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبکر صدیق عنہ نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس آیت کے بعد کیا بہتری باقی رہ جاتی ہے «لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ» کہ تمہاری خواہشات اور اہل کتاب کی خواہشات کا کوئی اعتبار نہیں، جو برا عمل کرے گا، اس کا بدلہ پائے گا . . . تو کیا ہمیں ہر برے عمل کی سزا دی جائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابوبکر! اللہ آپ پر رحم فرمائے، کیا آپ بیمار نہیں ہوتے؟ کیا آپ پریشان نہیں ہوتے؟ کیا آپ غمگین نہیں ہوتے؟ کیا آپ رنج و تکلیف کا شکار نہیں ہوتے؟ عرض کیا کیوں نہیں! فرمایا: یہی تو بدلہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 69]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده ضعيف كسابقه
الحكم: صحيح، وإسناده ضعيف كسابقه
← پچھلی حدیث (68) باب پر واپس اگلی حدیث (70) →