هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، إِسْرَائِيلُ ، جَابِرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَبِيهِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَاقَتِي وَكَيْتَ وَكَيْتَ، قَالَ:" أَمَّا نَاقَتُكَ فَانْحَرْهَا، وَأَمَّا كَيْتَ وَكَيْتَ فَمِنْ الشَّيْطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میں نے منت مانی ہے کہ میں اپنی اونٹنی کو ذبح کروں اور فلاں فلاں کام کروں؟ فرمایا: ”اپنی اونٹنی کو تو ذبح کرو اور فلاں فلاں کام شیطان کی طرف سے ہے لہٰذا اسے چھوڑ دو۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 688]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف جابر، وهو أبن يزيد الجعفي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف جابر، وهو أبن يزيد الجعفي