بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 6792
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 6792
حدیث نمبر: 6792 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَكِيعٌ ، الْمَسْعُودِيُّ ، وَيَزِيدُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُكْتِبِ ، أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ . وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُكْتِبِ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، أَمَرَهُمْ بِالظُّلْمِ فَظَلَمُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا، وَإِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ"، قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ"، قَالَ: فَقَامَ هُوَ أَوْ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ عَقَرَ جَوَادَهُ، وَأُهْرِيقَ دَمُهُ"، قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: وقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ فِي حَدِيثِهِ: ثُمَّ نَادَاهُ هَذَا أَوْ غَيْرُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ، وَهُمَا هِجْرَتَانِ هِجْرَةٌ لِلْبَادِي، وَهِجْرَةٌ لِلْحَاضِرِ، فَأَمَّا هِجْرَةُ الْبَادِي، فَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ، وَيُجِيبُ إِذَا دُعِيَ، وَأَمَّا هِجْرَةُ الْحَاضِرِ، فَهِيَ أَشَدُّهُمَا بَلِيَّةً، وَأَعْظَمُهُمَا أَجْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ظلم سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہو گا بےحیائی سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اللہ بےتکلف یا بتکلف کسی نوعیت کی بےحیائی پسند نہیں کرتا بخل سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو بھی ہلاک کر دیا تھا اسی بخل نے انہیں قطع رحمی کا راستہ دکھایا سو انہوں نے رشتے ناطے توڑ دیئے اسی بخل نے انہیں اپنی دولت اور چیزیں اپنے پاس سمیٹ کر رکھنے کا حکم دیاسو انہوں نے ایساہی کیا اسی بخل نے انہیں گناہوں کا راستہ دکھایا سو وہ گناہ کر نے لگے۔ اسی دوران ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ!! کون سا مسلمان افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ دوسرے مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں ایک اور آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ! کون سا جہاد افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی گئی ہوں اور اس کا خون بہا دیا گیا ہو یزید کی سند سے روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ پھر ایک اور آدمی نے پکار کر پوچھا یا رسول اللہ!! کون سی ہجرت افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کہ تم ان چیزوں کو چھوڑ دو جو تمہارے رب کو ناگوار گزریں اور ہجرت کی دو قسمیں ہیں شہری کی ہجرت اور دیہاتی کی ہجرت دیہاتی کی ہجرت تو یہ ہے کہ جب اسے دعوت ملے تو قبول کر لے اور جب حکم ملے تو اس کی اطاعت کرے اور شہری کی آزمائش بھی زیادہ ہوتی ہے اور اس کا اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6792]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
← پچھلی حدیث (6791) باب پر واپس اگلی حدیث (6793) →