رَوْحٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَقُولُ: لَأَصُومَنَّ الدَّهْرَ، وَلَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا بَقِيتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ، أَوْ قُلْتَ: لَأَصُومَنَّ الدَّهْرَ، وَلَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا بَقِيتُ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَإِنَّكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ"، قَالَ:" فَقُمْ وَنَمْ، وَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، فَإِنَّ الْحَسَنَةَ عَشْرُ أَمْثَالِهَا"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پتہ چل گیا کہ میں کہتا ہوں میں ہمیشہ دن کو روزہ رکھوں گا اور رات کو قیام کروں گا ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ہی ہو جو کہتے ہو روزانہ رات کو قیام اور دن کو صیام کروں گا؟ عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ! میں نے ہی کہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی طاقت نہیں رکھتے لہٰذا قیام بھی کیا کرو اور سویا بھی کرو روزہ بھی رکھو اور ناغہ بھی کیا کرو اور ہر مہینے میں صرف تین روزے رکھا کرو کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6761]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن