حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، سَلَمَةَ بْنِ أُكْسُومٍ ، القاسم بْنَ الْبَرْحِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أُكْسُومٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حُجَيْرَةَ يسأل القاسم بْنَ الْبَرْحِيِّ كَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص يُخْبِرُ؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ خَصْمَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى عَمْرِو بْنِ العاص، فَقَضَى بَيْنَهُمَا، فَسَخِطَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَضَى الْقَاضِي فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ، فَلَهُ عَشَرَةُ أُجُورٍ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ، كَانَ لَهُ أَجْرٌ أَوْ أَجْرَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قاسم بن برحی رحمہ اللہ سے ابن حجیرہ نے پوچھا کہ آپ نے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ دو فریق سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس ایک جھگڑالے کر آئے انہوں نے دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیا لیکن جس کے خلاف فیصلہ ہوا وہ ناراض ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر اس نے سارا واقعہ ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب قاضی کوئی فیصلہ خوب احتیاط سے کرے اور صحیح کرے تو اسے دس گنا اجر ملے گا اور اگر احتیاط کے باوجود فیصلے میں غلطی ہو جائے تو اس کو دوہرا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6755]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة وجهالة سلمة بن أكسوم
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة وجهالة سلمة بن أكسوم