مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، قَيْصَرَ التُّجِيبِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ قَيْصَرَ التُّجِيبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ شَابٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَ:" لَا"، فَجَاءَ شَيْخٌ، فَقَالَ: أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَنَظَرَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ عَلِمْتُ لِمَ نَظَرَ بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ، إِنَّ الشَّيْخَ يَمْلِكُ نَفْسَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ایک نوجوان آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ!! روزے کی حالت میں میں اپنی بیوی کو بوسہ دے سکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں تھوڑی دیر بعد ایک بڑی عمر کا آدمی آیا اور اس نے بھی وہی سوال پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اس پر ہم لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہے کہ تم ایک دوسرے کو کیوں دیکھ رہے ہو؟ دراصل عمر رسیدہ آدمی اپنے اوپر قابو رکھ سکتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6739]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف على خلاف فى صحابيه، ابن لهيعة سيئ الحفظ
الحكم: إسناده ضعيف على خلاف فى صحابيه، ابن لهيعة سيئ الحفظ