زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَعْطَيْتُ أُمِّي حَدِيقَةً حَيَاتَهَا، وَإِنَّهَا مَاتَتْ فَلَمْ تَتْرُكْ وَارِثًا غَيْرِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَجَبَتْ صَدَقَتُكَ، وَرَجَعَتْ إِلَيْكَ حَدِيقَتُكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں آ کر عرض کیا کہ میں نے اپنی والدہ کو ان کی زندگی میں ایک باغ دیا تھا اب وہ فوت ہو گئی ہیں اور میرے علاوہ ان کا کوئی وارث بھی نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں صدقہ کا ثواب بھی مل گیا اور تمہارا باغ بھی تمہارے پاس واپس آگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6731]
الحكم: إسناده حسن