حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْبَائِعُ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ سَفْقَةَ خِيَارٍ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) جب تک جدا نہ ہو جائیں ان کا اختیار فسخ باقی رہتا ہے الاّ یہ کہ معاملہ اختیار کا ہو اور کسی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے ساتھی سے اس ڈر سے جلدی جدا ہو جائے کہ کہیں یہ اقالہ ہی نہ کر لے (بیع ختم ہی نہ کر دے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6721]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: «ولا يحل له أن يفارقه خشية أن يستقيله» ، و هذا إسناده حسن
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: «ولا يحل له أن يفارقه خشية أن يستقيله» ، و هذا إسناده حسن