يَحْيَى ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ ، عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: أَتَى أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي؟ قَالَ:" أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ، إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ، وَإِنَّ أَمْوَالَ أَوْلَادِكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ، فَكُلُوهُ هَنِيئًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ میرا باپ میرے مال پر قبضہ کرنا چاہتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے سب سے پاکیزہ چیز جو تم کھاتے ہو وہ تمہاری کمائی کا کھانا ہے اور تمہاری اولاد کا مال تمہاری کمائی ہے لہٰذا اسے خوب رغبت کے ساتھ کھاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6678]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن