يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، تَوْبَةَ بْنَ نَمِرٍ ، أَبَا عُفَيْرٍ عَرِيفَ بْنَ سَرِيعٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ تَوْبَةَ بْنَ نَمِرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا عُفَيْرٍ عَرِيفَ بْنَ سَرِيعٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عَمْرِو بْنِ العاص، فَقَالَ: يَتِيمٌ كَانَ فِي حَجْرِي، تَصَدَّقْتُ عَلَيْهِ بِجَارِيَةٍ، ثُمَّ مَاتَ وَأَنَا وَارِثُهُ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : سَأُخْبِرُكَ بِمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ وَجَدَ صَاحِبَهُ قَدْ أَوْقَفَهُ يَبِيعُهُ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُ عَنْهُ، وَقَالَ:" إِذَا تَصَدَّقْتَ بِصَدَقَةٍ فَأَمْضِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک آدمی نے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ میرا ایک یتیم بھتیجا میری پرورش میں تھا میں نے اسے ایک باندی صدقے میں دی تھی اب وہ مرگیا اور اس کا وارث بھی میں ہی ہوں؟ انہوں نے فرمایا: ”کہ میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خود سنی ہے ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کسی کو فی سبیل اللہ ایک گھوڑا سواری کے لئے دے دیا تھوڑے ہی عرصے بعد انہوں نے دیکھا کہ وہ آدمی اسے کھڑا فروخت کر رہا ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ارادہ ہوا کہ اسے خرید لیں چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مشورہ کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ایسا کر نے سے منع کر دیا اور فرمایا: ”جب تم کوئی چیز صدقہ کر دو تو اس صدقے کو برقرار رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6616]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، علته عريف بن سريع فهو مجهول، ورشدين بن سعد ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف، علته عريف بن سريع فهو مجهول، ورشدين بن سعد ضعيف