بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 657
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 657
مُعَاوِيَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمِ ، أَبِي مُحَمَّدٍ الْهُذَلِيِّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ أَبِي مُحَمَّدٍ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَقَالَ:" أَيُّكُمْ يَنْطَلِقُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَا يَدَعُ بِهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرَهُ، وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّاهُ، وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَّخَهَا؟"، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَانْطَلَقَ، فَهَابَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ، فَرَجَعَ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَا أَنْطَلِقُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَانْطَلِقْ"، فَانْطَلَقَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَدَعْ بِهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرْتُهُ، وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ، وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَّخْتُهَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ عَادَ لِصَنْعَةِ شَيْءٍ مِنْ هَذَا، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، ثُمَّ قَالَ:" لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا، وَلَا مُخْتَالًا، وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ خَيْرِ، فَإِنَّ أُولَئِكَ هُمْ الْمَسْبُوقُونَ بِالْعَمَلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون شخص مدینہ منورہ جائے گا کہ وہاں جا کر کوئی بت ایسا نہ چھوڑے جسے اس نے توڑ نہ دیا ہو، کوئی قبر ایسی نہ چھوڑے جسے برابر نہ کر دیا اور کوئی تصویر ایسی نہ دیکھے جس پر گارا اور کیچڑ نہ مل دے؟ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں یہ کام کروں گا، چنانچہ وہ آدمی روانہ ہو گیا، لیکن جب مدینہ منورہ پہنچا تو وہ اہل مدینہ سے مرعوب ہو کر واپس لوٹ آیا۔ یہ دیکھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں جاتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، چنانچہ جب وہ واپس آئے تو عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے جہاں بھی کسی نوعیت کا بت پایا اسے توڑ دیا، جو قبر بھی نظر آئی اسے برابر کر دیا اور جو تصویر بھی دکھائی دی اس پر کیچڑ ڈال دیا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب جو شخص ان کاموں میں سے کوئی کام دوبارہ کرے گا گویا وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل کردہ وحی کا انکار کرتا ہے، نیز یہ بھی فرمایا کہ تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے یا شیخی خورے مت بننا، صرف خیر ہی کے تاجر بننا، کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن پر صرف عمل کے ذریعے ہی سبقت لے جانا ممکن ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 657]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى المورع، وقصة طمس الصورة و تسوية القبر المشرف، ستأتي بإسناد صحيح برقم :741
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى المورع، وقصة طمس الصورة و تسوية القبر المشرف، ستأتي بإسناد صحيح برقم :741
← پچھلی حدیث (656) باب پر واپس اگلی حدیث (658) →