يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: جَمَعْتُ الْقُرْآنَ، فَقَرَأْتُ بِهِ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَطُولَ عَلَيْكَ زَمَانٌ أَنْ تَمَلَّ، اقْرَأْهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي، قَالَ:" اقْرَأْهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي، قَالَ:" اقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشْرٍ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي، قَالَ:" اقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي، فَأَبَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے قرآن کریم یاد کیا اور ایک میں سارا قرآن پڑھ لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پتہ چلا تو فرمایا: ”مجھے اندیشہ ہے کہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد تم تنگ ہو گئے ہر مہینے میں ایک مرتبہ قرآن کریم پورا کر لیا کرو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے اپنی طاقت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئے اسی طرح تکرار ہوتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیس، دس اور سات دن کہہ کر رک گئے میں نے سات دن سے کم کی اجازت بھی مانگی لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انکار کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6516]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 5052، م: 1159
الحكم: صحيح لغيره، خ: 5052، م: 1159