يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُرِيدُ حِفْظَهُ، فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ، فَقَالُوا: إِنَّكَ تَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ تَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَرٌ، يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا، فَأَمْسَكْتُ عَنِ الْكِتَابِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا خَرَجَ مِنِّي إِلَّا حَقٌّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے جو چیزیں سن لیتا اسے لکھ لیتا تاکہ یاد کر سکوں مجھے قریش کے لوگوں نے اس سے منع کیا اور کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو کچھ بھی سنتے ہو سب لکھ لیتے ہو حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ایک انسان بعض اوقات غصہ میں بات کرتے ہیں اور بعض اوقات خوشی میں ان لوگوں کے کہنے کے بعد میں نے لکھناچھوڑ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات ذکر کر دی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”لکھ لیا کرو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میری زبان سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6510]
الحكم: إسناده صحيح