أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي السَّفَرِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نُصْلِحُ خُصًّا لَنَا، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" قُلْنَا خُصًّا لَنَا وَهَى، فَنَحْنُ نُصْلِحُهُ، قَالَ: فَقَالَ:" أَمَا إِنَّ الْأَمْرَ أَعْجَلُ مِنْ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہمارے پاس سے گزر ہوا ہم اس وقت اپنی جھونپڑی صحیح کر رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہو رہا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ ہماری جھونپڑی کچھ کمزور ہو گئی ہے اب اسے ٹھیک کر رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”معاملہ اس سے زیادہ جلدی کا ہے (موت کا کسی کو علم نہیں) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6502]
الحكم: إسناده صحيح