عَبْدُ الصَّمَدِ ، صَخْرٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا صَخْرٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ"، وَكَانَ يَقُولُ:" لَا تَلَقَّوْا الْبُيُوعَ، وَلَا يَبِعْ بَعْضٌ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ، أَوْ أَحَدٌ، عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ الْأَوَّلُ، أَوْ يَأْذَنَهُ فَيَخْطُبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا: ”ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بیع کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے کہ تاجروں سے پہلے ہی مت ملا کرو اور تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے الاّ یہ کہ اسے اس کی اجازت مل جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6417]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5142، م: 1412
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5142، م: 1412