يَعْلَى ، فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ ، أَبِي دِهْقَانَةَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِي دِهْقَانَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ، فَدَعَا بِلَالًا بِتَمْرٍ عِنْدَهُ، فَجَاءَ بِتَمْرٍ أَنْكَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا هَذَا التَّمْرُ؟" فَقَالَ: التَّمْرُ الَّذِي كَانَ عِنْدَنَا أَبْدَلْنَا صَاعَيْنِ بِصَاعٍ، فَقَالَ:" رُدَّ عَلَيْنَا تَمْرَنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے وہ کھجوریں منگوائیں جو ان کے پاس تھیں وہ جو کھجوریں لے کے آئے انہیں دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تعجب ہوا اور فرمایا: ”کہ یہ کھجوریں کہاں سے آئیں؟ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے دو صاع دے کر ایک صاع کھجوریں لی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو ہماری کھجوریں تھیں وہی واپس لے کر آؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6308]
الحكم: حديث حسن