بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 6225
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 6225
حدیث نمبر: 6225 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
نُوحٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نُوحٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُنَاجِي رَجُلًا، فَدَخَلَ رَجُلٌ بَيْنَهُمَا، فَضَرَبَ صَدْرَهُ، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَنَاجَى اثْنَانِ، فَلَا يَدْخُلْ بَيْنَهُمَا الثَّالِثُ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید مقبری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کسی شخص کے ساتھ کوئی بات کر رہے تھے ایک آدمی ان کے بیچ میں جا کر بیٹھ گیا انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سینے پر مار کر فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہے جب دو آدمی آپس میں خفیہ بات کر رہے ہوں تو ان کی اجازت کے بغیر ان کے پاس جا کر مت بیٹھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6225]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله العمري .
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله العمري .
← پچھلی حدیث (6224) باب پر واپس اگلی حدیث (6226) →