هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَبُو صَخْرٍ ، نَافِعٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قُعُودًا، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ , فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ، لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : بَلَغَنِي أَنَّهُ أَحْدَثَ حَدَثًا، فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ، فَلَا تَقْرَأَنَّ عَلَيْهِ مِنِّي السَّلَامَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي مَسْخٌ وَقَذْفٌ، وَهُوَ فِي الزِّنْدِيقِيَّةِ وَالْقَدَرِيَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ فلاں شامی آپ کو سلام کہتا ہے انہوں نے فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس نے نئی رائے قائم کر لی ہے اگر واقعی یہ بات ہے تو تم اسے میری جانب سے سلام نہ کہنا کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس امت میں بھی شکلیں مسخ ہوں گی اور پتھروں کی بارش ہو گی یاد رکھو کہ یہ ان لوگوں کی ہوں گی جو تقدیر کی تکذیب کرتے ہیں یا زندیق ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6208]
حکم دارالسلام
ضعيف، أبو صخر حميد بن صخر مختلف فيه .
الحكم: ضعيف، أبو صخر حميد بن صخر مختلف فيه .