مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ ، إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ، إِيَّاكَ وَالْإِلْحَادَ فِي حَرَمِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّهُ سَيُلْحِدُ فِيهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُهُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَيْنِ لَرَجَحَتْ"، قَالَ: فَانْظُرْ لَا تَكُونُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمانے لگے اے زبیر اللہ کے حرم میں الحاد پھیلنے کا ذریعہ بننے سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قریش کا ایک آدمی حرم شریف میں الحاد پھیلائے گا اگر اس کے گناہوں کا تمام انس وجن کے گناہوں سے وزن کیا جائے تو اس کے گناہوں کا پلڑا جھک جائے گا اس لئے دیکھو تم وہ آدمی نہ بننا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6200]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .