بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 6145
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 6145
حدیث نمبر: 6145 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، نَافِعٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ: قَالَ:" اطَّلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْقَلِيبِ , بِبَدْرٍ، ثُمَّ نَادَاهُمْ، فَقَالَ:" يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا؟" قَالَ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُنَادِي نَاسًا أَمْوَاتًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا قُلْتُ مِنْهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ بدر کے دن اس کنوئیں کے پاس آ کر کھڑے ہوئے جس میں صنادید قریش کی لاشیں پڑی تھیں اور انہیں پکار کر فرمانے لگے اے کنوئیں والو! کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا؟ بعض صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ!! کیا آپ مردوں کو پکار رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں ان سے جو کچھ کہہ رہاہوں وہ تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6145]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1370 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1370 .
← پچھلی حدیث (6144) باب پر واپس اگلی حدیث (6146) →