بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 5856
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 5856
حدیث نمبر: 5856 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، لِابْنِ عُمَرَ
رقم الحديث: 5698
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ , قُلْتُ: لِابْنِ عُمَرَ , إِنَّ عِنْدَنَا رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الْأَمْرَ بِأَيْدِيهِمْ، فَإِنْ شَاءُوا عَمِلُوا، وَإِنْ شَاءُوا لَمْ يَعْمَلُوا! فَقَالَ: أَخْبِرْهُمْ أَنِّي مِنْهُمْ بَرِيءٌ، وَأَنَّهُمْ مِنِّي بُرَآءُ، ثُمَّ قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا مُحَمَّدُ , مَا الْإِسْلَامُ؟ فَقَالَ: تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ، قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ، فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَمَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: تَخْشَى اللَّهَ تَعَالَى كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَا تَكُ تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ، فَأَنَا مُحْسِنٌ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: تُؤْمِنُ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْبَعْثِ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ وَالْجَنَّةِ، وَالنَّارِ، وَالْقَدَرِ كُلِّهِ، قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ، فَأَنَا مُؤْمِنٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: صَدَقْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہماری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی، میں نے ان سے عرض کیا کہ ہمارے یہاں کچھ لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ معاملات ان کے اختیار میں ہیں، چاہیں تو عمل کر لیں اور چاہیں تو نہ کر یں، ہماری بات سن کر انہوں نے فرمایا کہ جب تم ان لوگوں کے پاس لوٹ کر جاؤ تو ان سے کہہ دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں، یہ بات کہہ کر انہوں نے یہ روایت سنائی کہ ایک مرتبہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے محمد! اسلام کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ نیز یہ کہ آپ نماز قائم کر یں، زکوٰۃ ادا کریں، رمضان کے روزے رکھیں اور حج بیت اللہ کریں۔ اس نے کہا کہ جب میں یہ کام کر لوں تو میں مسلمانکہلاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا، پھر اس نے پوچھا کہ احسان کی تعریف کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ سے اس طرح ڈرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر یہ تصور نہ کر سکو تو پھر یہی تصور کر لو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اس نے کہا: کیا ایسا کرنے کے بعد میں محسن بن جاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اس نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا: پھر اس نے پوچھا کہ ایمان کی تعریف کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ پر، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، موت کے بعد دوبارہ زندگی، جنت و جہنم اور ہر تقدیر پر یقین رکھو، اس نے کہا: کیا ایسا کر نے کے بعد میں مومن کہلاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں!اس نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5856]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن زيد، وقد توبع.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن زيد، وقد توبع.
← پچھلی حدیث (5855) باب پر واپس اگلی حدیث (5857) →