عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، سَالِمٍ ، وَنَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، وَنَافِعٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنَ الْغَزْوِ أَوْ الْحَجِّ أَوْ الْعُمْرَةِ، يَبْدَأُ فَيُكَبِّرُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ يَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب حج، جہاد یا عمرہ سے واپس آتے تو پہلے تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت ہے اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، توبہ کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں، سجدہ کرتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے واپس آرہے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو اکیلے ہی شکت دے دی۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5830]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4116.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4116.