مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، بَكْرٍ ، أَنَسًا ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرٍ ، قَالَ: ذَكَرْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّى بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : يَرْحَمُ اللَّهُ أَنَسًا، وَهِلَ أَنَسٌ، وَهَلْ،" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حُجَّاجًا؟! فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ"، قَالَ: فَحَدَّثْتُ أَنَسًا بِذَلِكَ، فَغَضِبَ، وَقَالَ: لَا تَعُدُّونَا إِلَّا صِبْيَانًا!!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بکر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ہم سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو مغالطہ ہو گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابتداء میں تو حج کا احرام باندھا تھا، اور ہم نے بھی ان کے ساتھ حج کا ہی احرام باندھا تھا، پھر جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ پہنچے تو فرمایا: ”جس شخص کے پاس ہدی کا جانور نہ ہو، اسے چاہئے کہ اسے عمرہ بنا لے“، میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اس کا تذکر ہ کیا تو وہ ناراض ہوئے اور فرمانے لگے کہ تم تو ہمیں بچہ ہی سمجھتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5509]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4353، م: 1232
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4353، م: 1232