مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، خَالِدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلًا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ، قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنَّكَ خَلَقْتَ نَفْسِي، وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا، لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا، إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا، وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا، اللَّهُمَّ أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ"، فَقَالَ رَجُلٌ: سَمِعْتَ هَذَا مِنْ عُمَرَ؟ فَقَالَ: ممِنْ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جب اپنے بستر پر آیا کرو تو یہ دعاء کیا کرو کہ اے اللہ! تو نے مجھے پیدا کیا ہے، تو ہی مجھے موت دے گا، میرا مرناجینا بھی تیرے لئے ہے، اگر تو مجھے زندگی دے تو اس کی حفاظت بھی فرما اور اگر موت دے تو مغفرت بھی فرما اے اللہ میں تجھ سے عافیت کی درخواست کرتا ہوں، اس شخص نے پوچھا کہ یہ بات آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس ذات سے جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی بہتر تھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5502]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2712
الحكم: إسناده صحيح، م: 2712